السلام علیکم میرے پیارے قارئین! آج میں آپ کے ساتھ ایک ایسے موضوع پر بات کروں گی جس نے دنیا بھر کے ذہنوں کو الجھا رکھا ہے، اور وہ ہے ڈونباس جنگ کی اصل وجوہات۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ میں سے بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر یہ تنازع شروع کیسے ہوا، کیونکہ یہ محض آج کی بات نہیں، بلکہ اس کی جڑیں تاریخ میں بہت گہری ہیں۔ یہ پیچیدہ کہانی یوکرین کی آزادی کی خواہش اور روس کے ساتھ اس کے پرانے رشتوں کے درمیان کشمکش سے شروع ہوتی ہے۔ جب یوکرین نے مغربی دنیا کی طرف قدم بڑھانا چاہا، تو اس نے اس خطے میں تناؤ کو کس طرح بڑھا دیا؟ آئیے، اس اہم اور دل دہلا دینے والے معاملے کے تمام پہلوؤں کو ذرا تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اس گتھی کو سلجھاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ تاریخ، سیاست، اور قومی شناخت نے کیسے اس جنگ کو جنم دیا۔ نیچے دیے گئے مضمون میں، ہم ان تمام وجوہات کو گہرائی سے جانیں گے۔
تاریخی گتھیاں اور روسی تعلقات

میرے خیال میں ڈونباس جنگ کو سمجھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے روس اور یوکرین کے صدیوں پرانے، پیچیدہ تعلقات کو گہرائی سے دیکھنا ہوگا۔ میں نے تاریخ کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ یہ دونوں ممالک کی جڑیں دراصل “کییوان رس” نامی ایک قدیم سلاوی ریاست سے جا ملتی ہیں۔ یہ ایک ایسا مشترکہ ورثہ ہے جو دونوں قوموں کی ثقافت اور شناخت میں گندھا ہوا ہے۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے راستے الگ ہوتے گئے اور اپنی اپنی قومی شناخت بنتی چلی گئی۔ مجھے یاد ہے کہ سوویت یونین کے دور میں یوکرین کا ایک بڑا حصہ روسی سلطنت اور بعد میں سوویت یونین کا حصہ رہا۔ اس دوران روس نے اپنی زبان اور ثقافت کو یوکرین میں فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یوکرین کا ایک بہت بڑا طبقہ روسی زبان بولنے والا بن گیا، خاص طور پر مشرقی علاقوں میں، جہاں ڈونباس بھی شامل ہے। بہت سے یوکرینی یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ روس نے ہمیشہ انہیں اپنے دائرہ اثر میں رکھنے کی کوشش کی ہے اور ان کی آزادی کو کبھی مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا۔ یہ سوچنا کتنا افسوسناک ہے کہ ایک مشترکہ تاریخ اور ثقافت کس طرح تنازع کی بنیاد بن سکتی ہے۔ میں نے ہمیشہ سوچا ہے کہ ماضی سے سبق سیکھنا کتنا ضروری ہے۔
سوویت یونین کے بعد کی آزادی
1991 میں جب سوویت یونین ٹوٹا تو یوکرین کو آزادی ملی، اور یہ ایک بہت بڑا لمحہ تھا۔ یوکرین نے اپنی خود مختار ریاست کی بنیاد رکھی اور ایک منفرد قومی شناخت بنانے کی کوشش کی۔ لیکن یہ آزادی اتنی آسان نہیں تھی کیونکہ روس اس کے بعد بھی یوکرین کو اپنے زیر اثر رکھنا چاہتا تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک ماں اور بچے کے رشتے جیسا تھا جہاں ماں (روس) اپنے بچے (یوکرین) کو بڑا ہوتے اور اپنا راستہ چنتے ہوئے دیکھ کر پریشان تھی۔ کئی دہائیوں تک، روسی اثر و رسوخ نے یوکرین کی اندرونی سیاست پر گہرے اثرات ڈالے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت سے ہی تناؤ کی جڑیں مضبوط ہوتی چلی گئیں جب یوکرین نے مغربی ممالک، جیسے یورپی یونین اور نیٹو کی طرف جھکاؤ دکھانا شروع کیا۔
ثقافتی اور لسانی اختلافات
یوکرین میں روسی اور یوکرینی زبان بولنے والوں کے درمیان ایک گہری تقسیم ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ خاص طور پر ڈونباس جیسے مشرقی علاقوں میں جہاں روسی زبان زیادہ بولی جاتی ہے۔ میں نے خود کئی بار سنا ہے کہ یہ زبان کا مسئلہ کتنا حساس رہا ہے۔ 2014 میں جب یوکرین کی پارلیمنٹ نے روسی زبان کی ریاستی زبان کی حیثیت کو منسوخ کرنے کا بل پاس کیا (حالانکہ بعد میں اسے نافذ نہیں کیا گیا) تو اس سے روسی بولنے والے علاقوں میں شدید ناراضی پیدا ہوئی۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک چنگاری کی طرح تھا جس نے پہلے سے سلگتی ہوئی آگ کو مزید بھڑکا دیا۔ یہ تنازع صرف زبان کا نہیں تھا، بلکہ یہ قومی شناخت، ثقافت اور وفاداری کا مسئلہ بن گیا۔
زبان اور شناخت کی کشمکش
زبان ہمیشہ سے کسی بھی قوم کی شناخت کا ایک اہم ستون رہی ہے، اور یوکرین میں اس کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ مجھے ذاتی طور پر محسوس ہوتا ہے کہ یوکرین میں زبان صرف مواصلات کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ لوگوں کی وفاداری اور ان کی قومی شناخت کا ایک گہرا اظہار ہے۔ ڈونباس میں، جہاں تاریخی طور پر روسی زبان بولنے والوں کی ایک بڑی آبادی تھی، یوکرینی زبان کو ریاستی زبان کے طور پر فروغ دینے کی کوششوں نے بہت سے لوگوں میں بے چینی پیدا کی۔ یہ ایسا تھا جیسے کسی کو اپنی مادری زبان سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ روسی میڈیا نے اس صورتحال کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور یہ تاثر دیا کہ یوکرین کی نئی حکومت روسی بولنے والوں کے حقوق کو سلب کر رہی ہے۔
مادری زبان کا سوال اور پروپیگنڈا
مجھے یہ بات کبھی سمجھ نہیں آئی کہ زبان کو تنازع کی بنیاد کیوں بنایا جائے۔ میں نے دیکھا ہے کہ یوکرین میں بہت سے لوگ دونوں زبانیں بولتے ہیں، لیکن جنگ کے بعد سے یوکرینی زبان کو زیادہ ترجیح دی جانے لگی ہے۔ 2014 میں روسی زبان کو ریاستی زبان کی حیثیت سے ہٹانے کے بل نے (جو بعد میں نافذ نہیں ہوا) مشرقی یوکرین میں روسی بولنے والوں کو یہ محسوس کرایا کہ انہیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ میں اس وقت وہاں کے لوگوں کی پریشانی کا تصور کر سکتی ہوں، جب انہیں لگ رہا ہو کہ ان کی زبان اور ثقافت کو خطرہ ہے، چاہے وہ حقیقت میں کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔ روس نے اس تاثر کو تقویت دینے کے لیے میڈیا کا بھرپور استعمال کیا، جس میں یوکرین کی حکومت کو “فاشسٹ” اور روسیوں کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ یہ پروپیگنڈا آگ میں گھی کا کام کرتا ہے۔
قوم پرستی کا عروج
یوکرین میں قوم پرستی کا بڑھنا اور اپنی الگ شناخت کو مضبوط کرنا ایک فطری عمل تھا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ہر قوم کو اپنی شناخت بنانے کی آزادی ملی۔ لیکن روس نے اس کو اپنے لیے خطرہ سمجھا۔ مجھے یاد ہے کہ کس طرح کچھ لوگ یوکرینی شناخت کو مضبوط کرنے کی بات کرتے تھے اور یہ ان کا حق تھا۔ لیکن ڈونباس جیسے علاقوں میں جہاں روسی شناخت بھی گہری تھی، اس نے مزید تقسیم پیدا کی۔ یہ ایک ایسا تنازع ہے جہاں ہر فریق اپنے حق پر ہے، لیکن ایک دوسرے کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔ اس لسانی اور ثقافتی تفریق نے علیحدگی پسند تحریکوں کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
انقلابِ وقار اور مغربی جھکاؤ
مجھے یاد ہے کہ 2013-2014 کا یورومیڈن انقلاب، جسے انقلابِ وقار بھی کہا جاتا ہے، یوکرین کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم موڑ تھا۔ یہ صرف ایک احتجاج نہیں تھا، بلکہ یہ یوکرین کے عوام کی اس خواہش کا اظہار تھا کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ قریب تر تعلقات قائم کریں اور بدعنوانی سے پاک ایک بہتر مستقبل چاہتے تھے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لوگ اس وقت کی حکومت کی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے تنگ آ چکے تھے۔ جب اس وقت کے صدر وکٹر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ ایسوسی ایشن معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا اور اس کے بجائے روس کی طرف جھکاؤ دکھایا تو لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔
یورومیڈن کا جنم اور اثرات
یہ احتجاج نومبر 2013 میں کیف کے میدانِ آزادی میں شروع ہوئے اور آہستہ آہستہ ایک بڑے عوامی انقلاب کی شکل اختیار کر گئے۔ میں نے اس وقت کی خبروں میں دیکھا تھا کہ کس طرح ہزاروں لوگ اپنے مستقبل کے لیے لڑ رہے تھے۔ ان احتجاجات میں پولیس کے تشدد اور حکومتی کریک ڈاؤن نے لوگوں کے غصے کو مزید بڑھا دیا۔ آخر کار فروری 2014 میں یانوکووچ حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور وہ ملک سے فرار ہو گئے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ یوکرین کے لیے ایک نئی صبح کا آغاز تھا، لیکن روس نے اسے اپنے لیے ایک خطرہ سمجھا۔ روس نے اسے مغربی حمایت یافتہ “فاشسٹ بغاوت” قرار دیا۔
مغربی دنیا سے تعلقات کا بڑھنا
انقلابِ وقار کے بعد یوکرین نے مغربی دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی ٹھان لی۔ یوکرین یورپی یونین اور نیٹو میں شمولیت کا خواہاں تھا۔ میں نے اس وقت سوچا تھا کہ یہ یوکرین کا اپنا حق ہے کہ وہ کس کے ساتھ تعلقات بنانا چاہتا ہے۔ لیکن روس نے یوکرین کے اس مغربی جھکاؤ کو اپنی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ سمجھا۔ یہی وہ وقت تھا جب ڈونباس اور کریمیا میں کشیدگی تیزی سے بڑھی۔ روسی نقطہ نظر سے، یوکرین کا نیٹو میں شامل ہونا اس کی سرحدوں تک مغربی فوجی اتحاد کی توسیع تھا، جو روس کے لیے ناقابل قبول تھا۔
روس کے سٹریٹجک عزائم اور حفاظتی خدشات
روس کے ڈونباس جنگ میں ملوث ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ اس کے سٹریٹجک عزائم اور حفاظتی خدشات تھے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ روس نے یوکرین کو ہمیشہ اپنے “اثر و رسوخ کے دائرے” کا حصہ سمجھا ہے۔ 1991 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد، روس نے محسوس کیا کہ مغربی دنیا، خاص طور پر نیٹو، اس کی سرحدوں کی طرف تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ روس کے لیے ایک بہت بڑا سیکیورٹی چیلنج تھا، اور وہ کسی صورت یوکرین کو نیٹو کا حصہ بنتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
نیٹو کی توسیع کا خوف
روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے کئی بار یہ واضح کیا ہے کہ وہ نیٹو کی مشرقی توسیع کو روس کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب بھی نیٹو کی توسیع کی بات ہوتی تھی تو روس کی طرف سے سخت ردعمل آتا تھا۔ یوکرین کا نیٹو میں شامل ہونے کا ارادہ روس کے لیے ایک ریڈ لائن تھا۔ ڈونباس میں تنازع کو ہوا دے کر روس نے ایک طرح سے یوکرین کو مغربی اتحاد میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ یہ ایک سٹریٹجک چال تھی جس کا مقصد یوکرین کو غیر مستحکم رکھنا تھا تاکہ وہ مغربی اداروں کے ساتھ گہرے تعلقات قائم نہ کر سکے۔
جغرافیائی اور اقتصادی مفادات

ڈونباس کا علاقہ اپنی جغرافیائی اہمیت اور معدنی وسائل کی وجہ سے بھی روس کے لیے اہم ہے۔ یہ یوکرین کا ایک صنعتی مرکز رہا ہے، جہاں کوئلے کی کان کنی اور دھات سازی کی صنعتیں ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ روس ان وسائل پر کنٹرول حاصل کرکے یوکرین کی معیشت کو کمزور کرنا چاہتا تھا۔ اس کے علاوہ، ڈونباس کریمیا تک ایک زمینی پل فراہم کرتا ہے، جو روس کے لیے بحیرہ اسود میں اس کے فوجی اڈوں کے لیے سٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ روس نے 2014 میں کریمیا کو ضم کر لیا تھا۔ یہ سب روس کے طویل مدتی سٹریٹجک مفادات کا حصہ تھے۔
| عامل (فیکٹر) | روس کا نقطہ نظر | یوکرین کا نقطہ نظر |
|---|---|---|
| تاریخی تعلقات | مشترکہ ورثہ، یوکرین روس کا حصہ | آزادی، خود مختاری، الگ شناخت |
| زبان اور ثقافت | روسی زبان بولنے والوں کا تحفظ | یوکرینی زبان اور قومی شناخت کا فروغ |
| جغرافیائی اہمیت | ڈونباس سٹریٹجک کنٹرول، کریمیا تک راستہ | اپنی علاقائی سالمیت کا تحفظ |
| مغربی اتحاد (نیٹو) | سرحدوں پر نیٹو کی موجودگی خطرہ | اپنی سیکیورٹی کے لیے مغربی حمایت |
علاقائی علیحدگی پسندی اور پروپیگنڈے کا زور
ڈونباس میں جنگ کے آغاز میں علاقائی علیحدگی پسند تحریکوں کا ابھرنا ایک اہم عامل تھا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تحریکیں خود مختار نہیں تھیں، بلکہ انہیں روس کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ روس نے ان علیحدگی پسندوں کو مالی اور فوجی مدد فراہم کی، جس کی وجہ سے یہ تحریکیں مضبوط ہوتی چلی گئیں۔ میں نے کئی بار سوچا ہے کہ اگر بیرونی حمایت نہ ہوتی تو شاید یہ تحریکیں کبھی اتنا زور نہ پکڑ پاتیں۔
روس کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند تحریکیں
2014 میں یورومیڈن انقلاب کے فوراً بعد، ڈونباس کے علاقوں، خاص طور پر ڈونیٹسک اور لوہانسک میں روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں نے حکومتی عمارتوں پر قبضہ کر لیا اور اپنی “عوامی جمہوریائیں” قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرانی نہیں ہوئی کہ روس نے فوراً انہیں تسلیم کر لیا اور ان کی حمایت میں کھڑا ہو گیا۔ یہ ایک بہت ہی واضح اشارہ تھا کہ روس اس تنازع میں کتنا گہرائی سے ملوث تھا۔ روسی حکام نے ان علاقوں میں بغاوت کو منظم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
میڈیا اور غلط معلومات کا پھیلاؤ
اس جنگ میں پروپیگنڈا اور غلط معلومات کا پھیلاؤ ایک انتہائی خطرناک ہتھیار ثابت ہوا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ روسی میڈیا کس طرح یوکرین کی حکومت کو “فاشسٹ جنتا” کے طور پر پیش کرتا تھا اور یہ دعویٰ کرتا تھا کہ مشرقی یوکرین میں روسیوں کو خطرہ ہے۔ یہ ایک ایسا بیانیہ تھا جس نے مقامی آبادی میں خوف اور بے اعتمادی پیدا کی اور علیحدگی پسندی کو مزید ہوا دی۔ بہت سے لوگ اس پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے اور انہیں لگا کہ روس ہی ان کا واحد محافظ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ انسان کی سوچ کو بدلنے کا ایک بہت ہی چالاک طریقہ ہے، اور اس نے ڈونباس کے لوگوں کے ذہنوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
عالمی طاقتوں کا کردار اور تنازع کا بڑھنا
ڈونباس جنگ صرف روس اور یوکرین کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ اس میں عالمی طاقتوں کا کردار بھی بہت اہم رہا ہے۔ مجھے اکثر یہ سوچ کر دکھ ہوتا ہے کہ جب بھی دو ممالک کے درمیان کوئی تنازع ہوتا ہے، تو بڑی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے اس میں کود پڑتی ہیں، اور یہ جنگ مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ اس جنگ میں بھی ایسا ہی ہوا، جہاں مغربی ممالک نے یوکرین کی حمایت کی جبکہ روس نے اس کو اپنے مفادات کے خلاف دیکھا۔
مغربی ممالک کی حمایت اور پابندیاں
یوکرین کے مغربی جھکاؤ کے بعد، امریکہ اور یورپی یونین جیسے ممالک نے یوکرین کی حکومت کی حمایت کی۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے روس پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیں تاکہ اسے ڈونباس میں اپنے اقدامات سے روکا جا سکے۔ مغربی ممالک نے یوکرین کو فوجی امداد بھی فراہم کی تاکہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کر سکے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ حمایت یوکرین کے لیے بہت ضروری تھی، لیکن اس نے روس کو مزید مشتعل کر دیا اور اسے لگا کہ مغربی ممالک اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنا چاہتے ہیں۔
سفارتی کوششیں اور ناکامیاں
ڈونباس تنازع کو حل کرنے کے لیے کئی سفارتی کوششیں بھی کی گئیں، جن میں منسک معاہدے بھی شامل ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، یہ معاہدے کبھی بھی پوری طرح سے نافذ نہیں ہو سکے اور جنگ جاری رہی۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی اور ان کے متضاد مفادات کی وجہ سے ہوا۔ ہر فریق اپنی شرائط پر قائم رہا، اور اس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑا۔ یہ دیکھ کر دل دکھتا ہے کہ کس طرح سفارتی کوششیں بھی جنگ کو روکنے میں ناکام ہو جاتی ہیں، اور پھر خون خرابہ ہوتا ہے۔
글을 마치며
میرے پیارے قارئین، ڈونباس جنگ کی وجوہات اتنی گہری اور پیچیدہ ہیں کہ انہیں چند الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس مضمون نے آپ کو اس تنازع کی جڑوں کو سمجھنے میں مدد دی ہوگی، جو صرف زمین کے ٹکڑے کی جنگ نہیں بلکہ تاریخ، شناخت اور طاقت کے کھیل کا نتیجہ ہے۔ میں نے ذاتی طور پر محسوس کیا ہے کہ ایسی صورتحال میں عام لوگوں کی زندگیاں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ہمیں ادراک ہونا چاہیے، تاکہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھ سکیں اور مستقبل کو بہتر بنا سکیں۔
알아두면 쓸مو 있는 정보
1. ڈونباس کی تاریخی اہمیت: ڈونباس صرف ایک علاقہ نہیں بلکہ یہ یوکرین کا ایک بڑا صنعتی مرکز رہا ہے، جہاں صدیوں سے روسی ثقافت اور زبان کا گہرا اثر رہا ہے۔ مجھے یہ بات سمجھنے میں تھوڑا وقت لگا کہ یہ علاقہ روس اور یوکرین دونوں کے لیے کتنا اہم ہے، نہ صرف معاشی طور پر بلکہ علامتی طور پر بھی۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا تھا جو اب ٹوٹ چکا ہے اور اس کی تعمیر نو وقت طلب ہے۔
2. میڈیا کا دوہرا کردار: اس جنگ میں میڈیا نے رائے عامہ کو متاثر کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ مجھے یاد ہے کہ دونوں اطراف سے کس طرح پروپیگنڈا کیا گیا، جس سے سچ کو پہچاننا مشکل ہو گیا۔ ایک غیر جانبدار نقطہ نظر اپنانا اور خبروں کی کئی ذرائع سے تصدیق کرنا بہت ضروری ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے خبروں کو توڑ مرووڑ کر پیش کیا جاتا ہے اور یہ کس قدر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
3. بین الاقوامی تعلقات کی پیچیدگی: یہ جنگ صرف دو ممالک کے درمیان نہیں تھی بلکہ اس میں عالمی طاقتوں کے مفادات بھی شامل تھے۔ امریکہ، یورپی یونین اور نیٹو کی شمولیت نے اسے ایک علاقائی تنازع سے زیادہ بنا دیا۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرانی نہیں ہوئی کہ جب بڑے کھلاڑی شامل ہوتے ہیں تو مسئلہ کتنا پیچیدہ ہو جاتا ہے اور اس کا حل ڈھونڈنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر کوئی اپنے فائدے کا سوچتا ہے۔
4. انسانی المیہ: ان تمام سیاسی اور اسٹریٹجک باتوں سے ہٹ کر، سب سے بڑا نقصان عام شہریوں کا ہوا۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، ہزاروں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم جب بھی کسی جنگ کی بات کرتے ہیں تو اعداد و شمار میں انسانی جانوں کو بھول جاتے ہیں۔ ہر نمبر ایک خاندان کی کہانی ہے، ایک زندگی کی کہانی ہے جو بکھر گئی۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے میں کبھی نہیں بھلا سکتی۔
5. تاریخی سبق: ڈونباس جنگ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تاریخی اختلافات، لسانی تقسیم اور جغرافیائی سیاسی عزائم کس طرح کسی علاقے کو آگ میں جھونک سکتے ہیں۔ اس سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ مستقبل میں ایسے تنازعات کو بات چیت سے حل کیا جائے گا اور امن کو ترجیح دی جائے گی تاکہ مزید انسانی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔
중요 사항 정리
آخر میں، ڈونباس جنگ ایک کثیر الجہتی تنازع ہے جس کی جڑیں تاریخی اور ثقافتی گہرائیوں میں پیوست ہیں۔ مجھے سمجھ آیا ہے کہ یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ روس اور یوکرین کے درمیان طاقت، شناخت اور خود مختاری کی صدیوں پرانی کشمکش کا نتیجہ تھی۔ یوکرین کی آزادی، مغربی دنیا سے اس کا بڑھتا ہوا جھکاؤ، اور روس کے اپنے سٹریٹجک اور حفاظتی خدشات سب نے مل کر اس پیچیدہ صورتحال کو جنم دیا۔
مجھے یہ بات بھی واضح طور پر نظر آتی ہے کہ زبان اور شناخت کے مسائل نے کس طرح لوگوں کو تقسیم کیا۔ جب میں اس بارے میں سوچتی ہوں، تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ کس طرح میڈیا کے پروپیگنڈے نے آگ پر تیل کا کام کیا، لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا اور علیحدگی پسند تحریکوں کو تقویت دی۔ یہ سب کچھ مل کر ایک ایسا ماحول بناتا ہے جہاں سچائی اکثر دب جاتی ہے اور غلط فہمیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ یہ دیکھ کر دل دکھتا ہے کہ معلومات کی جنگ کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔
درحقیقت، یہ ایک ایسا المناک واقعہ ہے جس نے نہ صرف یوکرین اور روس کے تعلقات کو متاثر کیا بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس سے ہمیں یہ اہم سبق ملتا ہے کہ بات چیت، باہمی احترام اور تاریخ کو سمجھنا کتنا ضروری ہے۔ میری دلی خواہش ہے کہ دنیا کے تمام تنازعات کا حل پرامن طریقے سے تلاش کیا جائے، کیونکہ جنگ صرف تباہی لاتی ہے اور انسانوں کو دکھ دیتی ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہر زندگی قیمتی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: ڈونباس جنگ کی سب سے پہلی چنگاری کیا تھی اور اس کا فوری سبب کیا بنا؟
ج: مجھے یاد ہے جب 2014 میں یوکرین میں یورومائیڈن انقلاب آیا تھا، یہ وہ وقت تھا جب چیزیں واقعی بدلنا شروع ہوئیں۔ کیف میں حکومت کی تبدیلی ہوئی اور اس کا براہ راست اثر ڈونباس پر پڑا، جو کہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں روسی بولنے والے افراد کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ وہاں کے لوگوں کو لگا کہ ان کے حقوق اور ان کی ثقافتی شناخت کو خطرہ ہے کیونکہ نئی یوکرینی حکومت مغرب کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتی تھی۔ اس کے بعد، روس نے کریمیا کا الحاق کر لیا اور اس نے ڈونباس میں بھی روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کو پروان چڑھایا۔ جیسے جیسے کشیدگی بڑھتی گئی، ڈونباس کے روسی بولنے والے علاقوں، خصوصاً ڈونیٹسک اور لوہانسک میں مظاہرے شروع ہو گئے۔ ان مظاہروں نے جلد ہی مسلح تصادم کی شکل اختیار کر لی، کیونکہ وہاں کے لوگوں نے کیئف کی نئی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اپنی “عوامی جمہوریہ” کا اعلان کر دیا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ محض سیاسی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک جذباتی اور ثقافتی جنگ بھی تھی جو اس خطے کے لوگوں کے دلوں میں بھڑک اٹھی تھی۔ یہ واقعی ایک مشکل وقت تھا اور میں نے خود محسوس کیا کہ کیسے ایک سیاسی تبدیلی نے ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا۔
س: روس نے ڈونباس تنازع کے آغاز سے ہی اس میں کیا کردار ادا کیا، اور اس کے محرکات کیا تھے؟
ج: روس کا کردار ڈونباس جنگ میں شروع سے ہی واضح رہا ہے۔ جب یوکرین نے مغربی ممالک کی طرف جھکاؤ دکھایا، تو روس نے اسے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا। مجھے ایسا لگتا ہے کہ روس کبھی نہیں چاہتا تھا کہ یوکرین نیٹو کا حصہ بنے یا مغربی اتحادیوں کے ساتھ اتنا قریب ہو جائے جو اس کے اپنے بارڈر پر ہو۔ اسی لیے، جب 2014 میں یورومائیڈن کے بعد ڈونباس میں شورش شروع ہوئی، روس نے اس موقع کو غنیمت جانا۔ اس نے ڈونیٹسک اور لوہانسک میں روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کو مالی اور فوجی مدد فراہم کی۔ روس نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ ڈونباس میں روسی بولنے والے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کر رہا ہے، لیکن حقیقت میں اس نے ان علاقوں کو یوکرین سے الگ کرنے کی کوشش کی۔ مجھے یاد ہے کہ کس طرح بین الاقوامی برادری نے روس پر دباؤ ڈالا کہ وہ علیحدگی پسندوں کی حمایت بند کرے اور اپنی فوجیں یوکرین کی سرحد سے واپس بلائے۔ میرے ذاتی تجربے میں، یہ ایک ایسی صورتحال تھی جہاں ایک بڑی طاقت نے اپنی علاقائی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے ایک چھوٹے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی۔ یہ صرف زمین کے ٹکڑوں کی بات نہیں تھی، بلکہ یہ اثر و رسوخ کی ایک بڑی جنگ تھی۔
س: ڈونباس کے مقامی لوگوں نے اس تنازع پر کیا ردعمل دیا، اور ان کے بنیادی مطالبات اور خدشات کیا تھے؟
ج: ڈونباس کے مقامی لوگ اس جنگ کے بیچ میں پھنس گئے تھے اور ان کی صورتحال بہت پیچیدہ تھی۔ اس خطے میں روسی اور یوکرینی دونوں طرح کے لوگ رہتے ہیں، لیکن روسی بولنے والوں کی اکثریت ہے جو ثقافتی اور تاریخی طور پر روس سے زیادہ قریب محسوس کرتے ہیں। جب کیئف میں نئی حکومت آئی اور اس نے یوکرین کو مغرب کی طرف موڑنے کی کوشش کی، تو ڈونباس کے بہت سے لوگوں کو لگا کہ ان کی زبان، ان کی ثقافت اور ان کی شناخت کو خطرہ ہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ نئی حکومت ان کے مسائل کو نہیں سمجھتی اور انہیں نظرانداز کر رہی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے لوگوں نے علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت کرنا شروع کر دی۔ ان کا بنیادی مطالبہ اپنی خودمختاری اور اپنی روسی شناخت کا تحفظ تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان پر کیئف کی ایسی حکومت مسلط کی جائے جسے وہ اپنا نہ سمجھتے ہوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کس طرح عام لوگ اس تنازع میں اپنی جانیں بچانے کی کوشش کر رہے تھے، اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو رہے تھے، اور کس طرح ان کی روزمرہ کی زندگی مکمل طور پر متاثر ہوئی تھی۔ یہ دیکھ کر دل دکھتا ہے کہ ایک سیاسی تنازع کیسے عام لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ یہ صرف سیاست کا کھیل نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی بقا کا مسئلہ تھا۔






