یوکرینی کھانے کی ثقافت: وہ انوکھی باتیں جو آپ نہیں جانتے

webmaster

우크라이나 음식 문화 차이 - **Prompt:** A cozy, warm, and inviting Ukrainian family dining scene. A multi-generational family (g...

دوستو، کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ دنیا کے مختلف کونوں میں لوگ کس طرح کے کھانے پسند کرتے ہیں اور ان کی ثقافت کا اظہار ان کے ذائقوں میں کیسے ہوتا ہے؟ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار یوکرین کے کھانوں کے بارے میں جانا تو میں بالکل حیران رہ گیا تھا، یہ ہمارے سوچنے کے انداز سے کہیں زیادہ منفرد اور ذائقے دار ہیں۔ آج کی تیز رفتار دنیا میں، جہاں ہر کوئی نئی چیزیں آزمانا چاہتا ہے، وہاں یوکرینی کھانے کی ثقافت کو سمجھنا واقعی ایک لاجواب تجربہ ہو سکتا ہے۔ میں نے خود محسوس کیا ہے کہ ان کے پکوان صرف پیٹ نہیں بھرتے بلکہ صدیوں پرانی روایتوں اور دل چھو لینے والے قصوں کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ کیا آپ بھی تیار ہیں میرے ساتھ اس مزیدار سفر پر نکلنے کے لیے؟ چلیں، یوکرین کی کھانے کی ثقافت کے دلچسپ رازوں کو ایک ساتھ دریافت کرتے ہیں!

우크라이나 음식 문화 차이 관련 이미지 1

یوکرینی کھانوں کی صدیوں پرانی تاریخ اور روایات

دوستو، اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ کسی قوم کی روح کو سمجھنے کا سب سے بہترین طریقہ کیا ہے، تو میرا جواب ہوگا: ان کے کھانوں کو چکھیں! یوکرینی کھانے صرف ذائقوں کا مجموعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ صدیوں پرانی تاریخ، ثقافتی اثرات اور ان کے لوگوں کی زندگی کے اتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب میں نے پہلی بار یوکرین کے تاریخی پکوانوں کے بارے میں پڑھا، تو مجھے احساس ہوا کہ ان کے ہر کھانے کے پیچھے ایک کہانی چھپی ہے۔ ان کی جڑیں قدیم سلاوی قبائل تک جاتی ہیں، جہاں سادہ اجزاء جیسے گندم، آلو، گوبھی، اور چقندر کو مہارت سے استعمال کیا جاتا تھا۔ روسی سلطنت اور سوویت یونین کے ادوار نے بھی ان کے کھانوں پر گہرا اثر ڈالا، جس سے کچھ نئے پکوان متعارف ہوئے اور کچھ میں تبدیلیاں آئیں۔ لیکن اس سب کے باوجود، یوکرینیوں نے اپنی کھانے کی روایات کو برقرار رکھا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے ایک یوکرینی دوست سے ان کے خاندانی بورش کی ترکیب پوچھی تھی، تو اس نے بتایا کہ یہ صرف ایک سوپ نہیں ہے، بلکہ یہ ان کے بچپن کی یادوں، سردیوں کی شاموں اور دادی ماں کے پیار کی نشانی ہے۔ یہ سب کچھ آپ کو ان کے کھانوں میں نظر آئے گا – ہر نوالے میں روایت اور محبت کی مہک۔ ان کے پکوانوں میں آپ کو نہ صرف ذائقہ ملے گا بلکہ اس مٹی کی خوشبو بھی ملے گی جس پر یہ قوم صدیوں سے آباد ہے۔

قدیم جڑیں اور علاقائی اثرات

یوکرینی کھانوں کی بنیادیں بہت گہری ہیں، جو قدیم سلاوی قبائل اور زمین سے جڑی زندگی سے متاثر ہیں۔ شروع میں، ان کے پکوان سادہ اور غذائیت سے بھرپور ہوتے تھے، کیونکہ انہیں سخت سردیوں اور لمبے موسموں کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا۔ وہ لوگ اناج، سبزیوں اور گوشت کو محفوظ کرنے کے مختلف طریقے استعمال کرتے تھے، جن میں نمک لگانا، خشک کرنا اور فرمنٹ کرنا شامل تھا۔ مغربی یوکرین کے کھانوں میں پولش اور ہنگریائی اثرات نمایاں ہیں، جبکہ مشرقی علاقوں میں روسی اور ترکی اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، لِویو جیسے شہروں میں آپ کو ایسے بیکری آئٹمز ملیں گے جو یورپ کے دوسرے حصوں سے متاثر ہیں، جبکہ کریمیا میں تاتاری کھانے بھی بہت مقبول ہیں۔ میرے ایک دوست جو مغربی یوکرین سے تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے علاقے میں پلم (آلو بخارہ) سے بنی چیزیں بہت شوق سے کھائی جاتی ہیں، جبکہ وسطی یوکرین میں گوبھی اور چقندر کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ یہ علاقائی تنوع یوکرینی کھانوں کو اور بھی دلچسپ بنا دیتا ہے۔

سویت دور کا اثر اور جدید رجحانات

سوویت یونین کے دور نے یوکرینی کھانوں میں کچھ تبدیلیاں لائیں، جہاں کچھ پکوانوں کو پورے سوویت بلاک میں مقبولیت ملی۔ اس دور میں، کھانے کے اجزاء کی دستیابی اور تیاری کے طریقے معیاری بنا دیے گئے تھے۔ “کییف کٹلٹ” اور “بورش” جیسے پکوانوں کو سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا اور یہ سوویت ریستورانوں کی زینت بن گئے۔ تاہم، آزادی کے بعد، یوکرین نے اپنی مقامی ترکیبوں اور اجزاء کو دوبارہ اجاگر کرنا شروع کیا۔ آج کل، نوجوان شیف پرانے پکوانوں کو جدید انداز میں پیش کر رہے ہیں، اور صحت بخش اجزاء کے استعمال پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ میں نے خود کئی جدید یوکرینی ریستورانوں میں دیکھا ہے جہاں وہ روایتی کھانوں کو ایک نئے انداز میں پیش کرتے ہیں، جیسے کہ بورش کو ویگن ورژن میں یا واریانیکی (dumplings) کو نئے فلنگز کے ساتھ۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ یوکرینی کھانے کی ثقافت زندہ ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ارتقاء پذیر ہے۔

ذائقوں کا سمندر: یوکرین کے مشہور پکوان

یوکرین کے کھانوں کی بات ہو اور بورش کا ذکر نہ آئے، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا! یہ ان کی پہچان ہے، ان کی روح ہے۔ لیکن یہ صرف ایک سوپ نہیں، بلکہ ایک مکمل تجربہ ہے۔ میں نے جب پہلی بار اصلی یوکرینی بورش چکھا، تو میرے منہ میں ایک ایسا ذائقہ گھل گیا جو میں آج تک نہیں بھولا۔ چقندر کی گہری سرخ رنگت، سبزیوں کی تازگی، اور گوشت کا بھرپور ذائقہ – یہ سب مل کر ایک ایسا جادوئی احساس پیدا کرتے ہیں جو بیان سے باہر ہے۔ اس کے علاوہ، واریانیکی اور ہولوبتسی بھی ان کے دسترخوان کی شان ہیں۔ واریانیکی، جو ہمارے سموسوں یا ڈمپلنگز کی طرح ہوتے ہیں، مختلف قسم کی فلنگز کے ساتھ تیار کیے جاتے ہیں، جیسے آلو، پنیر، بند گوبھی، یا پھل۔ یہ گھر گھر کی پسندیدہ ڈش ہے۔ مجھے یاد ہے جب میری یوکرینی دوست نے مجھے گھر پر واریانیکی بنانا سکھایا تھا، تو مجھے لگا جیسے میں کوئی قدیم خاندانی راز سیکھ رہی ہوں۔ ہولوبتسی (گوبھی کے رول) بھی اتنے ہی مزیدار ہوتے ہیں، جنہیں بھرے ہوئے گوشت اور چاول کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے اور ٹماٹر کی چٹنی میں پکایا جاتا ہے۔ یہ سب پکوان صرف پیٹ نہیں بھرتے، بلکہ دل کو بھی چھو لیتے ہیں۔ ان میں ایک خاص قسم کا سکون اور اپنائیت کا احساس ہے۔

بورش: یوکرین کی پہچان

بورش صرف ایک سوپ نہیں ہے، یہ یوکرین کا قومی پکوان ہے جو ہر گھر اور ہر ریستوران میں ملتا ہے۔ اس کی ترکیب ہر علاقے اور ہر خاندان میں تھوڑی مختلف ہو سکتی ہے، لیکن اس کی بنیاد ہمیشہ چقندر، گوبھی، آلو، گاجر اور گوشت پر ہوتی ہے۔ اس میں اکثر ٹماٹر کا پیسٹ اور بعض اوقات لوبیا بھی شامل کیا جاتا ہے۔ بورش کو گرم گرم سرو کیا جاتا ہے، اور اس کے اوپر ایک چمچ سمیتانا (کھٹی کریم) اور تازہ کٹی ہوئی ہری پیاز یا اجوائن ڈالنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ میرے ایک یوکرینی دوست نے بتایا کہ اصل بورش کئی گھنٹوں تک دھیمی آنچ پر پکایا جاتا ہے تاکہ تمام اجزاء کا ذائقہ اچھی طرح سے رچ بس جائے۔ سردیوں کی ٹھنڈی راتوں میں، ایک گرما گرم پیالہ بورش واقعی روح کو گرم کر دیتا ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ یہ ان کے کھانے کی ثقافت کا ایک ایسا حصہ ہے جسے وہ فخر سے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

واریانیکی اور ہولوبتسی: دل لگی کے پکوان

واریانیکی (Varenyky) یوکرینی کھانے کے ایک اور ہیرو ہیں۔ یہ آٹے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں جنہیں مختلف فلنگز کے ساتھ بھرا جاتا ہے اور پھر ابالا جاتا ہے۔ میٹھے واریانیکی میں چیری، بلوبیری یا کاٹیج پنیر ہوتا ہے، جبکہ نمکین واریانیکی میں آلو، مشروم، گوشت یا بند گوبھی ہوتی ہے۔ انہیں بھی سمیتانا کے ساتھ کھایا جاتا ہے اور اکثر فرائیڈ پیاز یا بیکن کے ٹکڑوں سے گارنش کیا جاتا ہے۔ ہولوبتسی (Holubtsi) جسے گوبھی کے رول بھی کہتے ہیں، یوکرین میں بہت شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ انہیں بنانے کے لیے گوبھی کے پتوں میں چاول، کیما اور مصالحے بھر کر رول کیے جاتے ہیں، اور پھر ٹماٹر پر مبنی چٹنی میں دھیمی آنچ پر پکایا جاتا ہے۔ یہ دونوں پکوان یوکرینی گھرانوں میں اتوار کے کھانوں یا خاص مواقع پر ضرور بنائے جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں نے خود واریانیکی بنائے تھے، تو ان کا ذائقہ نہ صرف مزیدار تھا بلکہ ان میں گھر کی بنی ہوئی چیزوں کا ایک خاص اپنائیت کا احساس بھی تھا۔

Advertisement

ہر موسم کا اپنا ذائقہ: موسمی پکوان

یوکرینی کھانے صرف ذائقے میں ہی بہترین نہیں بلکہ یہ موسموں کے بدلتے رنگوں کے ساتھ بھی اپنے انداز بدلتے ہیں۔ ان کے ہاں ہر موسم کے اپنے خاص پکوان ہوتے ہیں جو اس موسم میں دستیاب تازہ اجزاء سے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ موسمی تنوع ان کے کھانوں کو نہ صرف صحت بخش بناتا ہے بلکہ ہر بار ایک نیا تجربہ بھی دیتا ہے۔ سردیوں کی ٹھنڈی شاموں میں گرما گرم اور دل کو سکون دینے والے سوپ اور سٹو کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے، جبکہ گرمیوں کے لمبے دنوں میں ہلکے پھلکے اور تازگی سے بھرپور سلاد اور ٹھنڈے سوپ روح کو تروتازہ کر دیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں یوکرین میں تھا تو ایک مقامی بازار میں گھومتے ہوئے میں نے دیکھا کہ کس طرح ہر موسم میں مختلف قسم کی سبزیاں اور پھل دستیاب ہوتے ہیں جنہیں فوراً پکوانوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ قدرتی اجزاء کا استعمال ان کے کھانوں کو مزید خاص بناتا ہے۔ یہ ان کی روایتی حکمت ہے کہ کیسے قدرت کے خزانوں کو بہترین طریقے سے استعمال کیا جائے۔ ان کا کھانا صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک طرز زندگی ہے۔

سردیوں کے گرما گرم پکوان

سردیوں میں یوکرین کے کھانے گرما گرم اور بھرپور ہوتے ہیں تاکہ ٹھنڈ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ بورش کے علاوہ، ‘سولیا نکا’ (solyanka) بھی ایک مقبول سوپ ہے جو گوشت، مچھلی یا مشروم سے بنتا ہے اور کھٹے ذائقے کے لیے اس میں اچار اور زیتون شامل کیے جاتے ہیں۔ ‘کاپوسنیاک’ (kapusniak) ایک اور گاڑھا سوپ ہے جو خمیر شدہ گوبھی اور سور کے گوشت سے تیار ہوتا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر ‘دیرونی’ (deruny) یعنی آلو کے پین کیکس بہت پسند ہیں، جو سردیوں میں ناشتے یا شام کی چائے کے ساتھ بہت لذیذ لگتے ہیں۔ انہیں سمیتانا کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ، مختلف قسم کے سٹو اور بیکڈ گوشت کے پکوان بھی سردیوں میں بہت مقبول ہوتے ہیں، جو جسم کو گرم رکھتے ہیں اور طاقت فراہم کرتے ہیں۔ جب برف باری ہو رہی ہو اور آپ گرما گرم دیرونی اور چائے کا کپ لے کر بیٹھے ہوں، تو اس کا اپنا ہی ایک مزہ ہوتا ہے۔

گرمیوں کے تازگی بھرے سالاد اور سوپ

گرمیوں میں، یوکرینی لوگ ہلکے اور تازگی بخش کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ‘اوکروشکا’ (okroshka) ایک ٹھنڈا سوپ ہے جو کوواس (kvas) نامی ایک خمیر شدہ مشروب پر مبنی ہوتا ہے، اور اس میں کٹی ہوئی سبزیاں، انڈے، اور گوشت شامل ہوتا ہے۔ یہ گرمیوں کی دوپہر میں پیاس بجھانے اور تازگی فراہم کرنے کے لیے بہترین ہے۔ اس کے علاوہ، تازہ سبزیوں کے سلاد، جیسے کھیرا، ٹماٹر، پیاز اور تازہ ہری پیاز سے بنے سلاد بھی بہت مقبول ہیں۔ ان سلاد میں سورج مکھی کا تیل اور سمیتانا ڈالی جاتی ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ گرمیوں میں لوگ باغیچوں سے تازہ سبزیاں توڑ کر فوراً سلاد میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، مختلف قسم کے پھلوں سے بنی ڈیسرز اور جوس بھی گرمیوں میں بہت مقبول ہوتے ہیں۔ یہ کھانے نہ صرف ہلکے پھلکے ہوتے ہیں بلکہ وٹامنز اور معدنیات سے بھی بھرپور ہوتے ہیں، جو گرمیوں میں جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

میٹھا ہو یا نمکین: یوکرینی ڈیسرز اور سنیکس

یوکرینی کھانے صرف مین کورسز تک ہی محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کے ہاں میٹھے اور نمکین سنیکس کی بھی ایک وسیع رینج موجود ہے جو ہر ذائقے کو مطمئن کر سکتی ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار یوکرینی بیکری میں قدم رکھا تھا، تو وہاں کی خوشبو اور انواع و اقسام کی مٹھائیوں نے مجھے حیران کر دیا تھا۔ ان کے ہاں کیک، پیسٹری، اور میٹھے بنز کی ایک لمبی فہرست ہے جو چائے یا کافی کے ساتھ بہت پسند کیے جاتے ہیں۔ اور اگر آپ کو نمکین سنیکس پسند ہیں، تو بھی آپ کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔ سڑکوں پر چھوٹے چھوٹے سٹالز پر آپ کو ایسے نمکین پکوان ملیں گے جو فوراً آپ کی بھوک مٹا دیں گے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ہر ملک کے سنیکس اس کی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں، اور یوکرین بھی اس میں پیچھے نہیں ہے۔ ان کے سنیکس نہ صرف ذائقے دار ہوتے ہیں بلکہ اکثر ان میں ان کی خاندانی ترکیبوں اور روایتی طریقوں کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ جب آپ وہاں جائیں تو ان کے مقامی سنیکس کو ضرور آزمائیے گا، یہ آپ کو وہاں کے لوگوں کے روزمرہ کے ذوق کے بارے میں بہت کچھ بتائیں گے۔

روایتی میٹھے پکوان اور بیکری

یوکرین میں میٹھے پکوانوں کی ایک بھرپور روایت ہے۔ ‘سیرنیکی’ (syrnyky) کاٹیج پنیر سے بنے چھوٹے پین کیکس ہیں جو اکثر ناشتے میں جام یا سمیتانا کے ساتھ کھائے جاتے ہیں۔ یہ میری پسندیدہ چیزوں میں سے ایک ہے۔ ‘میڈوِک’ (medovyk) یا ہنی کیک، کئی پتلی تہوں والا ایک مزیدار کیک ہے جسے شہد اور کریم سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ خاص مواقع پر بہت مقبول ہے۔ ‘کُلیچ’ (kulich) ایک اونچا، گول اور میٹھا بریڈ ہے جو ایسٹر پر بنایا جاتا ہے اور اسے چینی کی گلیز اور رنگین چھڑکاوٹ سے سجایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ‘پامپُشکی’ (pampushky) نامی میٹھے بنز بھی بہت پسند کیے جاتے ہیں، جنہیں عام طور پر لہسن کے ساس کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے لیکن میٹھے ورژن بھی موجود ہیں۔ ان بیکری آئٹمز میں آپ کو ہر گھر کی اپنی ایک ترکیب اور اپنا ایک انداز ملے گا۔

ذائقے دار سنیکس اور فاسٹ فوڈ

یوکرین میں آپ کو سڑکوں پر کئی قسم کے مزیدار سنیکس ملیں گے۔ ‘پِرُوشکی’ (pyrizhky) آٹے کے چھوٹے بنز ہوتے ہیں جو مختلف فلنگز جیسے آلو، گوشت، گوبھی یا جام کے ساتھ بھرے ہوتے ہیں اور انہیں بیک یا فرائی کیا جاتا ہے۔ یہ چلتے پھرتے کھانے کے لیے بہترین ہیں۔ ‘سالو’ (salo) جو کہ نمکین یا تمباکو نوشی کی گئی سور کی چربی ہے، یوکرین کا ایک مشہور اور روایتی سنیک ہے جسے روٹی اور لہسن کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ بعض اوقات لوگ اسے تھوڑی حیرت سے دیکھتے ہیں، لیکن وہاں کے لوگ اسے بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ آج کل، جدید شہروں میں آپ کو بین الاقوامی فاسٹ فوڈ کے ساتھ ساتھ مقامی فاسٹ فوڈ جیسے ‘شاوورما’ (shawarma) کے یوکرینی ورژن بھی ملیں گے جو کہ کافی مقبول ہیں۔ اس کے علاوہ ‘ہورِلکا’ (horilka) جو کہ یوکرینی ووڈکا ہے، اسے اکثر ان نمکین سنیکس کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

Advertisement

یوکرینی دسترخوان: خاندانی میل جول کا مرکز

یوکرین میں کھانا صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ خاندانی میل جول، دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے اور مہمان نوازی کا ایک اہم حصہ ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں یوکرین میں ایک خاندان کے ساتھ رہنے کا موقع ملا تھا، تو میں نے دیکھا کہ ان کے لیے کھانا ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنے اور رشتے مضبوط کرنے کا بہترین بہانہ ہوتا ہے۔ ان کا دسترخوان ہمیشہ بھرپور ہوتا ہے، اور وہ اپنے مہمانوں کی بہترین طریقے سے خاطر تواضع کرتے ہیں۔ ان کے لیے مہمان نوازی ایک بہت اہم اقدار ہے۔ جب کوئی مہمان آتا ہے تو انہیں بہترین کھانے پیش کیے جاتے ہیں اور ہر چیز سے پہلے مہمان کو آرام دہ محسوس کرایا جاتا ہے۔ یوکرین میں کھانا پکانا اور کھانا پیش کرنا ایک فن ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کھانے کے ذریعے وہ اپنی محبت اور اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ان کے سماجی تعلقات کا مرکزی نقطہ ہے، جہاں ہنسی مذاق، کہانیاں اور زندگی کے تجربات کا تبادلہ ہوتا ہے۔ ان کے ہاں کھانے کے آداب بھی بہت اہم ہیں، اور وہ بہت عزت و احترام سے ایک دوسرے کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔

میزبانی اور مہمان نوازی کا فن

یوکرینی لوگ اپنی مہمان نوازی کے لیے بہت مشہور ہیں۔ جب آپ ان کے گھر جاتے ہیں، تو وہ آپ کو ہر ممکن طریقے سے خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میز پر ہر قسم کے پکوان موجود ہوتے ہیں، اور وہ آپ کو بار بار کھانے پر زور دیتے ہیں۔ ‘وِتائیُو’ (Vitayu) یعنی ‘خوش آمدید’ کا لفظ ان کی مہمان نوازی کی روح کو ظاہر کرتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں ایک یوکرینی خاندان کے پاس مہمان تھا، تو انہوں نے مجھے اتنی محبت اور خلوص سے پیش کیا کہ مجھے لگا جیسے میں اپنے ہی گھر میں ہوں۔ وہ ہر مہمان کو اپنے خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی ثقافت میں مہمان کو عزت دینا ایک اہم حصہ ہے۔ وہ نہ صرف مزیدار کھانے پیش کرتے ہیں بلکہ یہ بھی یقینی بناتے ہیں کہ مہمان آرام دہ محسوس کرے۔

تہواروں کے خاص پکوان

우크라이나 음식 문화 차이 관련 이미지 2

یوکرین میں ہر تہوار کے اپنے خاص پکوان ہوتے ہیں۔ کرسمس کے موقع پر، وہ ‘کُتیا’ (kutia) نامی ایک میٹھا دلیہ بناتے ہیں جو گندم، پوست کے بیج، شہد اور گری دار میوے سے تیار ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی علامتی پکوان ہے۔ ایسٹر پر ‘کُلیچ’ اور ‘پیسانکی’ (pysanky) یعنی سجے ہوئے انڈے تیار کیے جاتے ہیں۔ ‘ماسلیانیتسیا’ (Maslenitsa) کے تہوار پر، جو بہار کا استقبال کرتا ہے، وہ ‘بلینی’ (blini) یعنی پین کیکس بناتے ہیں، جو سورج کی علامت ہیں۔ یہ تہوار کھانے پینے اور جشن منانے کے بھرپور مواقع ہوتے ہیں۔ ہر تہوار کے کھانے نہ صرف روایتی ہوتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ کئی پرانی کہانیاں اور عقائد بھی جڑے ہوتے ہیں۔ جب آپ ان تہواروں میں شرکت کرتے ہیں، تو آپ کو ان کی ثقافت اور روایات کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔

صحت اور ذائقہ: یوکرینی کھانوں کے فوائد

مجھے یہ دیکھ کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے کہ کس طرح یوکرینی کھانے نہ صرف ذائقے میں لاجواب ہیں بلکہ صحت کے لیے بھی بے حد مفید ہیں۔ ان کے پکوان تازہ اور قدرتی اجزاء سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم کو ضروری غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ ان کے کھانے میں سبزیاں، اناج اور صحت بخش چربی کا متوازن استعمال ہوتا ہے، جو انہیں دنیا کے صحت مند ترین کھانوں میں سے ایک بناتا ہے۔ میں نے خود محسوس کیا ہے کہ ان کے پکوانوں میں زیادہ تر اجزاء مقامی طور پر اگائے جاتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ تازہ اور کیمیائی اجزاء سے پاک ہوتے ہیں۔ یہ سب چیزیں مل کر ان کے کھانوں کو ایک خاص معیار دیتی ہیں۔ جب آپ یوکرینی کھانا کھاتے ہیں تو آپ کو نہ صرف پیٹ بھرنے کا احساس ہوتا ہے بلکہ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ آپ اپنے جسم کو کچھ اچھا دے رہے ہیں۔ یہ ان کی خوراک کی ثقافت کا ایک بنیادی اصول ہے کہ کھانا صرف لذت کے لیے نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی ہونا چاہیے۔ یہ ایک ایسا پہلو ہے جسے آج کی دنیا میں بہت زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔

تازہ سبزیوں اور جڑی بوٹیوں کا استعمال

یوکرینی کھانوں میں تازہ سبزیوں اور جڑی بوٹیوں کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے۔ چقندر، گوبھی، آلو، گاجر، پیاز، اور لہسن ان کے روزمرہ کے کھانوں کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ، تازہ ہری پیاز، اجوائن، اور ڈل (dill) جیسی جڑی بوٹیاں ہر پکوان میں ذائقہ اور خوشبو بڑھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ تمام اجزاء وٹامنز، معدنیات اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں، جو صحت کے لیے بہترین ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں نے ایک یوکرینی خاندان کے ساتھ کھانا کھایا تھا، تو ہر ڈش میں تازہ ہری پیاز اور ڈل کی خوشبو نمایاں تھی، جو واقعی کھانے کو ایک نیا ذائقہ دے رہی تھی۔ وہ لوگ اپنے باغات میں خود سبزیاں اور جڑی بوٹیاں اگاتے ہیں، اور انہیں فوراً کھانوں میں شامل کرتے ہیں۔

متوازن غذائیت اور قدرتی اجزاء

یوکرینی خوراک متوازن غذائیت پر مبنی ہوتی ہے۔ ان کے کھانوں میں کاربوہائیڈریٹس (اناج اور آلو)، پروٹین (گوشت اور پھلیاں)، اور صحت بخش چربی (سورج مکھی کا تیل اور سالو) کا اچھا امتزاج ہوتا ہے۔ وہ زیادہ تر چیزیں گھر پر ہی تیار کرتے ہیں اور پروسیسڈ فوڈز کا استعمال کم کرتے ہیں۔ یہ سب چیزیں ان کے کھانوں کو صحت بخش بناتی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی یہ عادت ہمیں بھی اپنانی چاہیے، کیونکہ گھر کا بنا ہوا کھانا ہمیشہ باہر کے کھانوں سے بہتر ہوتا ہے۔ ان کا کھانا نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے بلکہ اس میں کسی قسم کے مصنوعی ذائقے یا رنگ بھی شامل نہیں ہوتے، جو اسے مزید قدرتی اور صحت مند بناتا ہے۔ یہ ایک ایسی روایت ہے جو نسلوں سے چلی آ رہی ہے اور آج بھی قائم ہے۔

Advertisement

پاکستان میں یوکرینی کھانے کا مزہ

دوستو، اگر آپ میری طرح کھانے کے شوقین ہیں اور نئی چیزیں آزمانے کا شوق رکھتے ہیں، تو میں آپ کو بتاؤں کہ اب پاکستان میں بھی یوکرینی کھانوں کا مزہ لینا اتنا مشکل نہیں رہا۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ سال پہلے تک، یوکرینی کھانے کے بارے میں سننا بھی ایک عجیب سا لگتا تھا، لیکن اب ہمارے بڑے شہروں میں کئی ایسے ریستوران کھل گئے ہیں جہاں آپ مستند یوکرینی ذائقوں سے لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اگر آپ کو وہاں جا کر کھانے کا موقع نہیں ملا، تو اب آپ گھر بیٹھے بھی ان کے پکوانوں کو آزما سکتے ہیں۔ میں نے خود کئی بار گھر پر بورش اور واریانیکی بنانے کی کوشش کی ہے، اور میرا یقین کریں، یہ اتنا مشکل نہیں جتنا لگتا ہے۔ تھوڑی سی تلاش اور کچھ آسان ترکیبوں کے ساتھ، آپ بھی اپنے کچن میں یوکرین کا ذائقہ لا سکتے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی دلچسپ تجربہ ہوتا ہے جب آپ کسی نئی ثقافت کے کھانوں کو اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں۔ یہ نہ صرف آپ کی کوکنگ کی مہارت کو بڑھاتا ہے بلکہ آپ کو ایک نئی ثقافت سے بھی جوڑتا ہے۔

گھر پر یوکرینی کھانے بنانے کے آسان طریقے

یوکرینی کھانے بنانا اتنا مشکل نہیں ہے۔ انٹرنیٹ پر آپ کو بورش، واریانیکی اور ہولوبتسی کی بے شمار آسان ترکیبیں مل جائیں گی۔ بہت سے اجزاء جیسے چقندر، گوبھی، آلو، اور سورج مکھی کا تیل ہمارے مقامی بازاروں میں آسانی سے دستیاب ہیں۔ میں نے خود کئی بار یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھ کر بورش بنایا ہے اور میرا تجربہ ہے کہ اگر آپ ایک بار اس کی ترکیب سمجھ لیں تو پھر یہ بہت آسان ہو جاتا ہے۔ واریانیکی کے لیے، آپ تیار ڈمپلنگ ریپرز بھی استعمال کر سکتے ہیں تاکہ وقت کی بچت ہو۔ یہ ایک بہترین طریقہ ہے کہ آپ اپنے خاندان اور دوستوں کو کچھ نیا چکھائیں اور انہیں یوکرین کی ثقافت سے روشناس کرائیں۔

مقامی ریستورانوں میں یوکرینی لذتیں

پاکستان کے بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں اب کچھ ریستوران ایسے کھل گئے ہیں جو یوکرینی یا مشرقی یورپی کھانے پیش کرتے ہیں۔ ان ریستورانوں میں آپ مستند یوکرینی بورش، کییف کٹلٹ اور واریانیکی جیسے پکوان چکھ سکتے ہیں۔ یہ ایک بہترین موقع ہے کہ آپ خود یہ جانچیں کہ یوکرینی کھانوں کا اصل ذائقہ کیسا ہوتا ہے۔ اگر آپ کو اپنے شہر میں کوئی یوکرینی ریستوران نہ ملے، تو گھبرائیے نہیں، کئی بین الاقوامی فیوژن ریستوران بھی کبھی کبھار اپنے مینو میں یوکرینی پکوان شامل کر لیتے ہیں۔ میری صلاح ہے کہ اگر آپ کو ایسا کوئی موقع ملے تو اسے ہاتھ سے جانے نہ دیں، کیونکہ یہ ایک یادگار ذائقہ ہوگا۔

پکوان کا نام اہم اجزاء تفصیل ذائقہ
بورش (Borscht) چقندر، گوبھی، آلو، گوشت یوکرین کا قومی سوپ، گہرا سرخ رنگ، سمیتانا کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے کھٹا میٹھا، بھرپور
واریانیکی (Varenyky) آٹا، آلو، پنیر، پھل ڈمپلنگز، مختلف فلنگز کے ساتھ، ابال کر یا فرائی کر کے کھائے جاتے ہیں نرم، میٹھا یا نمکین
ہولوبتسی (Holubtsi) گوبھی، چاول، کیما گوبھی کے رول، ٹماٹر کی چٹنی میں پکائے جاتے ہیں چٹپٹا، نمکین
کییف کٹلٹ (Chicken Kyiv) مرغی کا سینہ، مکھن، لہسن بریڈ کرمبس میں لپیٹا ہوا مرغی کا کٹلٹ، اندر سے پگھلا ہوا مکھن کرسپی، رسیلا
دیرونی (Deruny) آلو، پیاز، انڈے آلو کے پین کیکس، سمیتانا کے ساتھ کھائے جاتے ہیں کرسپی، نمکین

بات ختم کرتے ہوئے

تو دوستو، یوکرینی کھانوں کا یہ سفر ہمارے لیے صرف ذائقوں کی دنیا میں ایک چکر نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسی ثقافت کو جاننے کا موقع بھی تھا جو صدیوں پرانی روایات اور بے پناہ محبت سے بھری ہے۔ میں نے خود یہ محسوس کیا ہے کہ جب آپ کسی قوم کے کھانوں کو سمجھتے ہیں، تو آپ ان کے دل کے قریب ہو جاتے ہیں۔ یوکرین کے پکوان ان کے لوگوں کی روح کی عکاسی کرتے ہیں – سادگی میں نفاست، مہمان نوازی میں خلوص، اور ہر نوالے میں تاریخ کا ذائقہ۔ مجھے امید ہے کہ اس پوسٹ نے آپ کو یوکرینی کھانوں کے بارے میں مزید جاننے اور شاید انہیں آزمانے کی ترغیب دی ہوگی۔ کھانے کی دنیا واقعی بہت وسیع اور دلچسپ ہے، اور ہر نئی ڈش ایک نیا تجربہ لے کر آتی ہے۔

Advertisement

جاننے کے لیے مفید معلومات

1. یوکرین میں کھانا آرڈر کرتے وقت اگر آپ کو کسی ڈش کے بارے میں زیادہ معلومات نہ ہو، تو ویٹر سے اس کے اہم اجزاء اور ذائقے کے بارے میں ضرور پوچھیں۔
2. بورش کو ہمیشہ سمیتانا (کھٹی کریم) اور تازہ ڈل کے ساتھ کھائیں۔ یہ اس کے ذائقے کو چار چاند لگا دیتا ہے۔
3. واریانیکی کی کئی اقسام ہوتی ہیں؛ اگر آپ میٹھے کے شوقین ہیں تو چیری یا کاٹیج پنیر والے واریانیکی آزمائیں، اور اگر نمکین پسند ہیں تو آلو اور مشروم والے بہترین ہیں۔
4. یوکرین کے مقامی بازاروں میں تازہ موسمی سبزیاں اور پھل سستے اور بہت اعلیٰ معیار کے ملتے ہیں، انہیں خریدنا نہ بھولیں۔
5. اگر آپ کو یوکرینی کھانے بہت پسند آتے ہیں تو مقامی کوکنگ کلاسز لینے کا سوچیں تاکہ آپ خود بھی ان پکوانوں کو بنانا سیکھ سکیں۔

اہم نکات کا خلاصہ

یوکرینی کھانا صدیوں کی تاریخ، علاقائی تنوع اور بھرپور ثقافتی روایات کا عکاس ہے۔ بورش ان کا قومی پکوان ہے جو چقندر کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے اور پورے خطے میں مقبول ہے۔ واریانیکی اور ہولوبتسی جیسے پکوان خاندانی میل جول اور مہمان نوازی کا لازمی حصہ ہیں۔ یوکرینی خوراک موسمی اجزاء کے استعمال کو ترجیح دیتی ہے، جو اسے صحت بخش اور تازگی بخش بناتی ہے۔ میٹھے اور نمکین سنیکس بھی ان کے کھانے کی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یوکرین میں کھانا صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ محبت، خلوص اور تہواروں کی رونق کو بڑھانے کا ایک ذریعہ ہے۔ آج پاکستان میں بھی یوکرینی کھانوں تک رسائی بڑھ رہی ہے، اور انہیں گھر پر یا مقامی ریستورانوں میں آزمانا ایک بہترین ثقافتی تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: یوکرین کے سب سے مشہور اور لازمی آزمائے جانے والے پکوان کون سے ہیں، اور انہیں کیا چیز خاص بناتی ہے؟

ج: جب یوکرینی کھانوں کی بات آتی ہے، تو سب سے پہلے ذہن میں جو نام آتا ہے وہ “بورسچٹ” ہے۔ یہ کوئی عام سوپ نہیں ہے، بلکہ یوکرین کی روح ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار اسے چکھا تھا تو اس کا گہرا، مٹھاس اور کھٹاس کا ایک بہترین امتزاج مجھے آج بھی یاد ہے۔ یہ چقندر، گوبھی، آلو اور کبھی کبھار گوشت سے تیار کیا جاتا ہے، اور اکثر اوپر سے کھٹی کریم یعنی “سمیتانا” ڈال کر پیش کیا جاتا ہے۔ سردیوں کی ٹھنڈی شام میں اس کا گرم گرم ایک پیالہ، آہ!
کیا کہنے! اس کے بعد “وارینیکی” آتے ہیں، جو کہ ہماری پیٹھی والی روٹی یا پکوڑی کی طرح کے ڈمپلنگز ہوتے ہیں۔ ان میں آلو، پنیر، یا میٹھے چیری بھرے ہوتے ہیں اور انہیں ابال کر یا فرائی کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ مجھے خاص طور پر آلو والے وارینیکی بہت پسند ہیں جو تلے ہوئے پیاز اور کریم کے ساتھ مل کر کمال کا ذائقہ دیتے ہیں۔ پھر “پامپوشکی” کو کیسے بھول سکتے ہیں؟ یہ چھوٹے، گول، لہسن والے بن ہوتے ہیں جو بورسچٹ کے ساتھ لاجواب لگتے ہیں۔ ایک اور منفرد چیز ہے “سالو”، جو کہ نمک لگائی ہوئی سور کی چربی ہوتی ہے، اگرچہ یہ شاید ہر کسی کے ذائقے کے مطابق نہ ہو، لیکن یہ یوکرین کے دیہی علاقوں کی مضبوط ثقافت کا حصہ ہے۔ آخر میں، “کیف کیک” ایک میٹھا اور کریمی ہیزل نٹ میرنگ کیک ہے جو ہر میٹھا پسند کرنے والے کے لیے ضروری ہے۔ یہ تمام پکوان صرف کھانے نہیں ہیں، بلکہ یوکرین کی گرم جوشی، ان کے خاندانی روایات اور ان کی سرزمین سے گہری محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔

س: آپ یوکرینی کھانوں کے عمومی ذائقے اور فلیور پروفائل کو کیسے بیان کریں گے، اور اس کے اہم اجزاء کیا ہیں؟

ج: میرے تجربے کے مطابق، یوکرینی کھانا دل کو چھو لینے والا، بھرپور اور اکثر بہت تازگی بھرا ہوتا ہے۔ ان کے پکوانوں میں مٹھاس، کھٹاس اور نمکین کا ایک بہترین توازن پایا جاتا ہے جو ایک منفرد ذائقہ پیدا کرتا ہے۔ زیادہ تر کھانوں میں تازہ سبزیوں کا استعمال ہوتا ہے جیسے چقندر، گوبھی، آلو اور پیاز۔ مجھے خود یوکرین میں کھیتوں کی تازہ سبزیوں سے بنی ڈشز کھا کر ایک الگ ہی لطف آیا، ان کی تازگی کھانے کا ذائقہ دوگنا کر دیتی ہے۔ گوشت میں سور کا گوشت، گائے کا گوشت اور مرغی عام ہیں، جو اکثر سٹو، سوپ یا گرلڈ شکل میں تیار کیے جاتے ہیں۔ “سمیتانا” یعنی کھٹی کریم یوکرینی کھانوں کا ایک بہت اہم جزو ہے، یہ نہ صرف ذائقہ بڑھاتی ہے بلکہ ڈش کو ایک کریمی اور ملائم ٹیکسچر بھی دیتی ہے۔ مسالوں کا استعمال ہمارے برصغیر کی طرح تیز نہیں ہوتا، بلکہ زیادہ تر جڑی بوٹیوں جیسے ڈل (سویا)، اجمودا (پارسیلے) اور لہسن کا استعمال ہوتا ہے جو کھانوں کو ایک خوشبودار اور ہلکا سا ذائقہ دیتا ہے۔ مجموعی طور پر، یوکرینی کھانا وہ ہے جو آپ کو سردیوں میں گرم رکھتا ہے اور گرمیوں میں تروتازہ محسوس کرواتا ہے۔ یہ سادہ مگر ذائقے سے بھرپور ہوتا ہے، جس میں ہر لقمہ پرانے وقتوں کی کہانیاں سناتا ہے۔

س: یوکرین میں کھانے کی ثقافتی اہمیت کیا ہے؟ کیا یہ صرف کھانے کے بارے میں ہے یا اس سے کہیں زیادہ؟

ج: یوکرین میں کھانا صرف بھوک مٹانے کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ وہاں کی ثقافت، مہمان نوازی اور خاندانی روایات کا آئینہ دار ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب کوئی مہمان آتا ہے تو یوکرینی لوگ دل کھول کر اس کی تواضع کرتے ہیں، میز کو مختلف قسم کے پکوانوں سے بھر دیتے ہیں۔ یہ ان کے پیار، سخاوت اور عزت دینے کا طریقہ ہے۔ خاندانی اجتماعات، تہوار اور خاص مواقع پر کھانے کا اپنا ایک مقام ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، کرسمس جیسے تہواروں پر خاص قسم کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں جن کی اپنی ایک روایتی اہمیت ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے ایک بار ایک یوکرینی دوست کے گھر دعوت پر گیا تھا، تو ان کی ماں نے اتنے پیار اور محنت سے کھانا بنایا تھا کہ ہر لقمے میں ان کی شفقت محسوس ہو رہی تھی۔ یہ صرف ایک کھانے کی دعوت نہیں تھی، بلکہ رشتوں کو مضبوط کرنے اور خوشیاں بانٹنے کا ایک خوبصورت ذریعہ تھا۔ یوکرین میں کھانا ایک قسم کا “سماجی بندھن” ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ یہ بات چیت کرنے، کہانیاں سنانے اور زندگی کے ہر پہلو کو ایک ساتھ محسوس کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔ میرا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کی ثقافت کو سمجھنے کے لیے اس کے کھانوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے، اور یوکرین میں یہ تجربہ واقعی دل کو چھو لینے والا ہوتا ہے۔

Advertisement